ڈیرے دار

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - خیمہ نصب کرنے والا، خاندانی طوائف جس کے ساتھ اس کا عملہ ہو نیز اس کی مستقل رہائش کی جگہ جہاں موسیقی وغیرہ کی تربیت دی جائے، خوشحال کسبی۔ "ڈیرے دار طوائفوں کا مختصر سا تذکرہ بے جا نہ ہو گا۔"      ( ١٩٦٢ء، ساقی، کراچی، جولائی، ٥٥ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم ڈیرا کی واحد غیر ندائی 'ڈیرے' کے ساتھ فارسی مصدر داشتن سے فعل امر 'دار' بطور لاحقہ فاعلی لگانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے تحریراً ١٩٠٤ء کو "آفتابِ شجاعت" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - خیمہ نصب کرنے والا، خاندانی طوائف جس کے ساتھ اس کا عملہ ہو نیز اس کی مستقل رہائش کی جگہ جہاں موسیقی وغیرہ کی تربیت دی جائے، خوشحال کسبی۔ "ڈیرے دار طوائفوں کا مختصر سا تذکرہ بے جا نہ ہو گا۔"      ( ١٩٦٢ء، ساقی، کراچی، جولائی، ٥٥ )

جنس: مذکر